Urdu

30 اکتوبر 2022ء کو ورکرز پارٹی (پی ٹی) کے لولا ڈا سلوا نے انتہائی دائیں بازو کے امیدوار بولسونارو کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں چھوٹے مارجن کے ساتھ شکست دے دی۔ اگرچہ محنت کشوں اور نوجوانوں کا اس نتیجے پر جشن منانا بنتا ہے، مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ بولسونارو کو توقعات سے زیادہ ووٹ ملے، جو دو مرحلوں کے دوران اپنے ووٹوں میں 60 لاکھ کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں لولا کے ووٹوں میں 26 لاکھ کا اضافہ ہوا۔

پچھلے چند مہینوں میں کئی ممالک کے مرکزی بینکوں نے افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لئے تیزی سے شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ پرسوں فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) نے شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کیا اور گزشتہ روز بینک آف انگلینڈ نے بھی اضافہ کر دیا ہے۔ شرح سود میں ہیجانی اضافے نے مارٹگیج شرح (گھر رہن کی شرح) اور حکومتی قرضوں کے حصول کی شرح میں اضافہ جبکہ عالمی کساد بازاری کے خطرات کو تیز تر کر دیا ہے۔ یہ ساری صورتحال عام عوام کے لئے بہت تکلیف دہ ہے لیکن کیا حکمران طبقات اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے؟

مندرجہ ذیل لیف لیٹ، عالمی مارکسی رجحان کی جانب سے، ایرانی نوجوانوں کی انقلابی تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منعقد ہونے والے مظاہروں اور تقریبات کے اندر تقسیم کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں ہمارا موقف پیش کیا گیا ہے کہ کیسے اس متاثر کُن تحریک کو آگے بڑھنا چاہیے۔ ملّا حکومت مردہ باد! سامراجیت مردہ باد! سرمایہ داری مردہ باد!

ایران کی ملک گیر احتجاجی تحریک چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، مگر ریاستی جبر کا نتیجہ محض عوام کو مزید مشتعل کرنے اور نئی پرتوں کے متحرک ہونے کی صورت نکل رہا ہے۔ سڑکوں پر موجود نوجوانوں کے ساتھ اب ہزاروں کی تعداد میں سکول کے طلبہ اور بازار کے تاجروں سمیت محنت کشوں کی اہم پرتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ تیل اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے، جو ایرانی معیشت کا کلیدی حصہ ہے، کے اندر ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

13 ستمبر کو ایرانی ’اخلاقی پولیس‘ نے جینا ایمینی نامی ایک کرد لڑکی کو حراست میں لیا، جو اپنے بھائی کے ساتھ ایرانی کردستان کے شہر سیقیز سے تہران آئی تھی۔ اس کے بھائی نے مداخلت کرنے کی کوشش کی اور پولیس سے پوچھا: ”ہم یہاں غیر ملکی ہیں، آپ اسے کیوں گرفتار کر رہے ہیں؟“، تو انہوں نے اسے بھی مارا پیٹا۔ اس کے بعد انہوں نے جینا کواس وقت تک تشدد کا نشانہ بنایا جب تک وہ بے ہوش نہیں ہوگئی۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا، اور جمعہ 16 ستمبر کو وہ زخموں کی شدت کی وجہ سے انتقال کر گئی۔

ایک کہاوت ہے کہ عوام کو وہی حکومت ملتی ہے جس کی وہ حق دار ہے۔ ٹراٹسکی نے اپنے شاہکار مضمون ”طبقہ، پارٹی اور قیادت“ میں نشاندہی کی تھی کہ یہ کہاوت غلط ہے۔ ایک ہی عوام کو قلیل عرصے میں مختلف قسم کی حکومتیں مل سکتی ہیں اور ملتی بھی ہیں۔

بے قابو افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکزی بینک شرح سود بڑھا رہے ہیں اور نتیجتاً کساد بازاری جنم لے رہی ہے۔ ہر لمحہ سنگین ہوتا سرمایہ دارانہ بحران حکمران طبقے میں تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔ ایک سوشلسٹ انقلاب ہی اس بند گلی سے باہر نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

ایک اطالوی کہاوت ہے کہ: مذاق ختم ہوا۔ سرکاری طور پر دس دن کے مسلط کردہ ”قومی سوگ“ کے بعد ویسٹ منسٹر ایبی (تاریخی چرچ جہاں برطانوی بادشاہوں اور ملکاؤں کی تاج پوشی ہوتی ہے) میں 19 ستمبر پیر کے دن ملکہ الزبتھ کا ریاستی جنازہ منعقد کیا گیا۔

سرد موسمِ سرما کی آمد ہے۔ نیٹو اور روس کے سامراجی تصادم کا پورا بوجھ محنت کشوں اور غریبوں کے اوپر پڑ رہا ہے جو اس کی قیمت آسمان کو چھوتے بلوں اور ٹھنڈے گھروں کی صورت چکا رہے ہیں، جبکہ مٹھی بھر گیس اور تیل کے بڑے بڑے کاروباری اشخاص منافعوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ایران کی بدنامِ زمانہ اخلاقی پولیس (گشتِ ارشاد) کے ہاتھوں نوجوان کرد لڑکی ژینا مھسا امینی کے قتل کے خلاف ایران بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملا ہے۔ احتجاجوں کا آغاز ایران کے کرد علاقوں میں ہوا اور اس کے بعد وہ ملک کے بڑے شہروں سمیت 30 سے زائد شہروں تک پھیل گئے، جن میں تہران، مشھد، اصفہان، کرج، تبریز اور نام نہاد مقدس شہر قم شامل ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز پولیس تشدد کے خلاف ردعمل کے طور پر ہوا تھا مگر جلد ہی اس میں پوری ریاست کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کیا جانے لگا۔

9 جولائی کو سری لنکا کے احتجاجی عوام بڑی تعداد کے ساتھ کولمبو میں موجود صدر گوٹابایا راجاپکشا کی رہائش میں گھس گئے۔ یہ پورے ملک میں مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج تھا۔ انہوں نے اس سے پہلے ہی تین حکومتی کابینوں، مرکزی بینک کے گورنر، اور گوٹا کے اپنے بھائیوں کوعہدوں سے دستبردار کروایا تھا۔ گوٹا کے بھائیوں میں سے ایک وزیرِ خزانہ باسیل راجاپکشا، اور دوسرا تب کا طاقتور وزیراعظم مہندا راجاپکشا تھا جسے 9 مئی کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔

برطانیہ پر سب سے طویل حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کا دور ماضی کے استحکام کی علامت تھا۔ اس کی موت نئے بحرانی دور کا اعلان ہے۔۔۔برطانوی اسٹیبلشمنٹ کا ایک اور ستون منہدم ہو کر انقلابی مستقبل کا اعلان کر رہا ہے۔

لز ٹرس ٹوری پارٹی قیادت کی دوڑ جیت کر برطانیہ کی نئی وزیرِ اعظم بن چکی ہے۔ اسے وراثت میں دیو ہیکل بحران ملے ہیں۔۔۔بے قابو توانائی کی قیمتیں اور ”سٹیگ فلیشن“ (بے قابو افراطِ زر اور جمود کا شکار معیشت) اور محنت کش تحریک کا سیلاب۔ مستقبل انقلابی دھماکوں سے لبریز ہے۔

30 اگست کو سوویت یونین کا آخری سربراہ میخائیل سرگے وچ گورباچوف 91 سال کی عمر میں مر گیا۔ سوویت یونین میں ’اوپر سے‘ اصلاحات کرنے والی اس کی پالیسیاں، جسے وہ گلاسنوست (کشادگی) اور پیریسترائیکا (تعمیرِ نو) کے نام سے کر رہا تھا، سٹالنسٹ افسر شاہی کی مراعات برقرار رکھنے اور سوویت معیشت کے بدترین تضادات حل کرنے کی ایک آخری ناکام کوشش کا اظہار تھا۔ ان اقدامات کی ناگزیر ناکامی نے روس کے اندر سرمایہ داری کی بحالی، منصوبہ بند معیشت کی تباہی، اور لاکھوں افراد کو غربت میں دھکیلنے کے لیے راستہ کھول دیا۔ یہ بربادی گورباچوف کا ورثہ ہے۔

24 اگست کو ساؤتھ افریقن فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز کے ہزاروں محنت کشوں نے افریقہ بھر میں سڑکوں پر نکل کر شدید مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا، جس نے محنت کش طبقے اور غرباء کو بالخصوص سخت متاثر کیا ہے۔