اسرائیل نے فلسطین کے علاقے رفاہ پر حملہ کیوں مؤخر کیا؟

10 مارچ کو رفاہ پر حملے کی دی گئی تاریخ گزر چکی ہے لیکن ابھی تک کوئی حملہ نہیں ہوا۔ کیا نیتن یاہو تذبذب کا شکار ہے؟ یقینا جواب نفی میں ہے۔ اسرائیلی حکومت پر بیرونی، خاص طور پر امریکی انتظامیہ کا شدید دباؤ ہے جبکہ اندرونی خلفشار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کیا امریکی دباؤ کی بنیاد بائیڈن کی انسان دوست سوچ ہے؟ ایک مرتبہ پھر جواب ہے یقینا نہیں۔ امریکہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کی مسلسل حمایت کر رہا ہے جس کا ثبوت عسکری امداد میں اضافہ ہے۔ پھر حملے میں تاخیر کی کیا وجہ ہے؟

[Source]

انگریزی میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پچھلے ایک مضمون میں ”رفاہ پر حملہ: یہ چنگاری پورے مشرق وسطیٰ کو بھڑکا سکتی ہے“ میں ہم نے واضح کیا تھا کہ اگر اسرائیل رفاہ پر فوج کشی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد قتل ہوں گے اور پچھلے مہینوں میں ہونے والی اموات کے اعدادوشمار ماند پڑ جائیں گے، تو یہ قدم ایک ایسی چنگاری ثابت ہو سکتا ہے جو پورے مشرق وسطیٰ میں انقلاب کی آگ بھڑکا سکتی ہے۔

یہ واضح ہے کہ مصر سے اردن تک اور خطے کے دیگر ممالک میں موجود آمریتوں کے ساتھ سامراجیوں کے ذہن بھی اس وقت مشین کی تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جائے اور پورا خطہ ہی ایک دھماکے میں پھٹ نہ جائے۔

اس سے ایک حد تک موجودہ تعطل واضح ہوتا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان اس وقت مذاکرات جاری ہیں تاکہ ”عارضی“ ہی سہی لیکن کسی قسم کی جنگ بندی کر دی جائے۔ حال ہی میں ایک اسرائیلی وفد دوحہ بالواسطہ مذاکرات کے لئے پہنچا ہے جس کا مقصد اسرائیل کے لئے موجودہ پیشکش سے کچھ بہتر حاصل کرنا ہے۔

لیکن گنجلک مسائل وہی ہیں جو مذاکرات کے آغاز میں بھی موجود تھے۔۔۔اسرائیل ایک ”عارضی“ جنگ بندی کا خواہش مند ہے۔۔۔ایک چھ ہفتے کے دورانیے کی بات کی جا رہی ہے۔۔۔جس کے نتیجے میں تمام مغویوں کو بازیاب کروایا جائے گا جبکہ حماس کا مقصد ایک ”مکمل“ جنگ بندی ہے جس کے نتیجے میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء ہو گا۔

موجودہ مذاکرات میں تین مرحلوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔۔۔ایک عارضی جنگ بندی جس کے نتیجے میں تقریباً 35 مغویوں کو رہا کیا جائے گا، پھر ایک مکمل جنگ بندی جس میں باقی مغوی رہا ہو جائیں گے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور تعمیر نو کا کام شروع ہو جائے گا۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل نے اعلان کر رکھا ہے کہ کسی قسم کی مکمل جنگ بندی خارج از امکان ہے اور جب ایک مرتبہ تمام مغوی بازیاب ہو جائیں گے تو حماس کی مکمل تباہی و بربادی کے ہدف کے ساتھ جنگ ایک مرتبہ پھر شروع ہو جائے گی۔

یہ واضح ہے کہ فی الحال جنگ بندی کے امکانات اگر ناممکن نہیں تو انتہائی محدود ضرور ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میز کے دونوں طرف بیٹھے فریقین کے مفادات یکسر متضاد ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کی ساکھ تباہ و برباد ہو چکی ہے اور اس کے پاس اپنی حکمرانی جاری رکھنے کا واحد طریقہ کار ایک لامتناہی جنگ ہے۔ دوسری طرف حماس کے لئے غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل اخراج کے علاوہ ہر آپشن ناقابل قبول ہے۔

امریکی سامراج کی گرفت مسلسل کمزور ہو رہی ہے

اس انتہائی پیچیدہ مسئلے میں امریکہ کا مرکزی کردار ہے۔ اسرائیل کا سارا دارومدار امریکہ پر ہے جس میں کلیدی کردار ہتھیاروں کی فراہمی ہے، خاص طور پر الیکٹرانک گائیڈ میزائل جن کے ذریعے دعوے کے مطابق غزہ میں حماس اڈوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل کے لئے جنگ جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ لیکن عام عوام کی اموات سے متعلق بائیڈن کی تمام دوغلی لفاظی سے ہٹ کر ایک حقیقت روز روشن کی مانند واضح ہے، وہ یہ کہ عسکری امداد کسی صورت ختم نہیں کی جائے گی۔ اس درندے کی منافقت کی کوئی حد نہیں ہے۔

بائیڈن کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ بطور ایک قابل اعتماد اتحادی امریکہ کی ساکھ۔۔۔جب صورتحال مزید گھمبیر ہو گی۔۔۔کئی سالوں میں پہلے ہی تباہ و برباد ہو چکی ہو ہے۔ اگر اسرائیل کے خلاف کوئی سنجیدہ حکمت عملی بنائی جاتی ہے تو بقیہ ماندہ ساکھ ویسے ہی بخارات بن کر اُڑ جائے گی۔ امریکہ نے پوری دنیا میں ان گنت ممالک کے ساتھ تعلقات اور اتحاد بنا رکھے ہیں۔ ان اتحادوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ جاری رہے۔ ایک سامراجی قوت کے ساتھ اتحاد کا کیا فائدہ ہے اگر مقامی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ناممکن ہے؟

مثلاً سعودی کبھی نہیں بھولے کہ 2011ء کی انقلابی شورش میں امریکہ نے سعودی خواہشات کے برعکس حسنی مبارک کو فارغ کرا دیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مبارک آمریت عوام کے سمندر کو کنٹرول رکھنے میں ناکام ہو چکی تھی اور صورتحال کو دوبارہ معمول پر لانے کے لئے مبارک کا جانا ناگزیر ہو چکا تھا۔ سعودیوں کو یہ واضح ہو گیا کہ”مستقبل میں اگر کوئی انقلابی تحریک اٹھی تو امریکہ ہمارے اقتدار اور اثرورسوخ کی ضمانت نہیں دے سکتا“۔

درحقیقت دہائیوں پر محیط عمل میں امریکی سامراج نسبتی طور پر مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ آج بھی دنیا کا سب سے طاقتور ترین سامراجی ملک ہے لیکن اس کا حلقہ اثر ماضی کے مقابلے میں کم ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ معاشی قوت ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکہ کل عالمی GDP (کل مجموعی پیداوار) کا 50 فیصد پیدا کر رہا تھا جبکہ اس کے پاس دنیا کی 80 فیصد حقیقی کرنسی بھی موجود تھی۔ آج عالمی GDP میں امریکی حصہ 24 فیصد تک گر چکا ہے۔ اس دوران دیگر اہم کھلاڑی عالمی سٹیج پر رونما ہو چکے ہیں جن میں سب سے اہم چین ہے جو دیگر مقامی قوتوں سمیت طاقت اور حلقہ اثر کی کشمکش میں دھنسا ہوا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی طاقتور معاشی قوت نے اسے دیوہیکل سفارتی اور عسکری قوت سے نوازا۔ مثلاً اسی بنیاد پر 1950ء کی دہائی میں جب امریکہ اسرائیل کو کہتا تھا کہ یہ کام کرو تو اسرائیلی حکومت فوراً آداب بجا لاتی تھی۔ 1956ء میں سوئز کنال افراتفری کے بعد سینائی جزیرہ نما پر اسرائیل کا قبضہ تھا اور جب امریکہ نے حکم صادر کیا کہ اسرائیلی افواج فوری طور پر جزیرہ نما خالی کر دیں تو انہوں نے فوری طور پر یہ حکم پورا کیا۔ آج نیتن یاہو بائیڈن کو ناک چڑا رہا ہے اور غزہ کے حوالے سے اپنی سازشیں کر رہا ہے۔

بائیڈن نے بارہا نیتن یاہو سے اپیلیں کی ہیں کہ رفاہ پر حملے پر نظر ثانی کی جائے یا پھر کم از کم اس طرح سے منصوبہ بندی کی جائے کہ کم سے کم انسانی جان کا نقصان ہو۔ اس کی وجہ کوئی انسان دوستی کا جذبہ نہیں ہے۔ امریکی سامراج اپنی پوری تاریخ میں آج تک اس طرح کے جذبات کو خاطر میں نہیں لایا۔ بائیڈن نیتن یاہو کے عمومی منصوبوں کی حمایت کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اصرار بھی کر رہا ہے کہ حماس کو شکست فاش کرنے کے اور بھی کئی طریقے ہیں۔

پیر کے دن بائیڈن نے نیتن یاہو سے درخواست کی کہ ایک وفد واشنگٹن بھیجا جائے تاکہ بحث مباحثہ ہو کہ رفاہ پر حملہ کیسے ملتوی کیا جا سکتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی دفاعی وزیر گالانت خود اس وفد کا حصہ ہے۔ اس دوران امریکی سیکرٹری ریاستی امور (امریکی وزیر خارجہ) انتونی بلنکن جنگ کے آغاز کے بعد سے اس وقت مشرق وسطیٰ کے چھٹے دورے پر ہے تاکہ موجودہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہو سکے۔

اس ساری بھاگ دوڑ کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ رفاہ پر حملہ خطے میں موجود امریکی اتحادی عرب آمریتوں میں بڑھتے اندرونی تضادات کو تیز تر کر دے گا، جیسے اردن، جسے 1996ء میں امریکہ کا اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دیا گیا تھا یا پھر جیسے مصر جو خطے میں کلیدی امریکی اتحادی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ غزہ جنگ اندرونی امریکی سیاست میں ایک کلیدی کردار اختیار کر چکی ہے۔ اس سال کے اختتام تک صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے اور یہ تقریباً نوشتہ دیوار ہی ہے کہ ٹرمپ فتح یاب ہو گا۔ جنگ میں بائیڈن نے جو کردار ادا کیا ہے اس نے وسیع پیمانے پر مختلف سماجی پرتوں میں اس کی ساکھ مجروح کر دی ہے جن میں خاص طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جن کی حمایت سے اس نے 2020ء کا انتخاب جیتا تھا۔ لیکن اس میں کئی کلیدی ریاستوں میں مسلمانوں کا ووٹ بھی شامل ہے۔ بائیڈن شدید پریشان ہے کہ وہ ووٹروں کو ثابت کر کے دکھائے کہ مشرق وسطیٰ میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ تاحال وہ مکمل بانجھ پن کا ہی اظہار کر سکا ہے۔

اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت نیتن یاہو 1950ء کی دہائی میں موجود اسرائیلی حکومتوں کی طرح فرمانبرداری کرنے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ اسے امریکہ اور خاص طور پر بائیڈن کی نسبتی کمزوری کا مکمل ادراک ہے اور اس لئے وہ امریکی صدر کی ہر اپیل کا ایک ہی جواب دیتا ہے کہ ”ہم رفاہ پر فوج کشی کریں گے“۔ طویل مدت پر محیط امریکی سامراج کی تاریخی کمزوری آج اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں اپنا اظہار کر رہی ہے۔ اب اس کے لئے حکم صادر کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور بس ایک آخری امید رہ گئی ہے کہ اپیلیں کرتے جاؤ، ہو سکتا ہے کسی ایک پر کان دھر لئے جائیں۔

رفاہ پر حملہ موخر ہوا ہے، ملتوی نہیں

لیکن نیتن یاہو کی اپنی کابینہ میں بھی سب سے زیادہ جنونی صیہونی وزراء سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر اس موجودہ جنگ کا انجام کیا ہے۔ درحقیقت انہیں یقین تھا کہ ایک تندوتیز اور مختصر جنگ میں حماس کا قلع قمع ہو جائے گا، ان کے اڈے تباہ و برباد ہو جائیں گے اور ان کی فعالیت قصہ پارینہ ہو جائے گی۔ آج یہ ہدف افق سے بھی پار کہیں دور نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے۔

حماس جنگجو ابھی بھی غزہ اور اس کے اطراف میں موجود ہیں۔ وہ ان علاقوں میں بھی واپس آ چکے ہیں جن پر IDF (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان کو ایک قوت کے طور پر مکمل تباہ و برباد کرنے کا راستہ بہت طویل اور دشوار گزار ہے۔ اس کے لئے اب تک قتل کی جانے والی عوام سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنی پڑے گی۔

اس ساری صورتحال نے اطراف میں موجود عرب آمریتوں پر ناقابل برداشت دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ ان آمروں کی ٹانگیں خوف سے کانپ رہی ہیں کہ انہیں اس نسل کشی میں خاموش تماشائی یا خاموش حامی سمجھتے ہوئے عوامی انقلابی تحریکوں کے ریلے پھٹ پڑیں گے اور انہیں خس و خاک کی مانند بہا لے جائیں گے۔ امریکہ اور یورپ میں بھی عوام شدید پولرائز ہو رہی ہے اور خاص طور پر اس وقت نوجوانوں میں فلسطینی سوال پر غم و غصہ اور ریڈکلائزیشن برق رفتاری سے بڑھ رہے ہیں۔

اس وقت رفاہ میں IDF کی فوج کشی کے منصوبے اور ان کے ممکنہ نتائج توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ غزہ سے صبح شام فلسطینی عوام کے تباہ و برباد حالات کی دل سوز رپورٹیں صبح شام موصول ہو رہی ہیں جس میں اب وسیع پیمانے پر قحط کی خبریں سب سے اہم ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لاکھوں افراد کو دانستہ طور پر بھوکا مارنے کی کوشش ایک جنگی جرم ہے۔ اگر یہ عمل مزید آگے بڑھتا ہے تو پورے خطے میں عرب عوام کا غم و غصہ ایک معیاری مرحلہ عبور کر سکتا ہے اور خطے میں تمام امریکی منصوبہ بندی کے پرخچے اڑ جائیں گے۔

امریکی سامراج کو یہ درپیش مسائل ہی کافی نہیں تھے کہ لبنانی سرحد پر مسلسل نیم جنگی کیفیت ایک اور وبال جان بنی ہوئی ہے۔ اس وقت کھلے عام بات ہو رہی ہے کہ ایک مرتبہ IDF غزہ سے نمٹ لے تو پھر اگلی باری حزب اللہ کی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سرحد پر مسلح جھڑپیں اور میزائلوں کا تبادلہ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت میں کچھ افراد نے کھلم کھلا شمالی فرنٹ کو مکمل طور پر کھول دینے کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔

کنیسیٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں نیتن یاہو کے سابق وزیر دفاع اور حزب اختلاف کے ممبر آویگ دور لائبرمین نے اعلانیہ اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ”ہوش کے ناخن لو اور دشمن کی زمین پر جنگ کو منتقل کرو“، یعنی لبنان پر جنگ مسلط کرو۔

لیکن حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے اسرائیل پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ حزب اللہ اور حماس کے پاس موجود اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سامان میں زمین آسمان کا فرق ہے جبکہ اس کے جنگجوؤں کے پاس مشرق وسطیٰ میں کئی سالوں سے جاری جنگوں کا وسیع تجربہ بھی موجود ہے۔ اگرچہ اسرائیلی افواج کے پاس زیادہ جدید ہتھیار موجود ہیں اور امریکہ بھی جنگی سامان کی کمک کے لئے پشت پر کھڑا ہے لیکن حزب اللہ اسرائیل کو شدید زخمی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ایسی کوئی بھی جنگ حقیقی معنوں میں خطے کی ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس میں امریکہ کو مجبوراً براہ راست مداخلت کرنی پڑے گی۔

اس سب کی بنیاد پر بائیڈن مسلسل نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ حماس کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ تاحال امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں ہر وہ قرار داد مسترد کی ہے جس میں ”فوری“ جنگ بندی کا ذکر تھا۔ لیکن حال میں سیکورٹی کونسل میں مسترد ہونے والی اپنی امریکی قرارداد میں یہی الفاظ موجود تھے۔

اس میں کہا گیا تھا کہ ”فوری اور دیر پا جنگ بندی کی ضرورت ہے“۔۔۔ظاہر ہے اس میں اضافی یہ ذکر بھی تھا کہ یہ ”مغویوں کی بازیابی سے منسلک ہے“۔۔۔امدادی سامان کو غزہ پٹی میں داخلے کی اجازت دی جائے، ایک مکمل انسانی تباہی و بربادی اور عمومی بھوک سے موت کی صورتحال کو روکا جائے۔ جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ بلنکن نے ایک مرتبہ پھر وہی روایتی جملہ دہرایا کہ ”ظاہر ہے، ہم اسرائیل اور اس کے حق دفاع کی (مکمل اور غیر مشروط) حمایت کرتے ہیں۔۔۔“۔

یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی ہر جگہ ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ جنگ بندی فوراً ہونی چاہیے لیکن شرط یہ ہے کہ مغوی بازیاب ہوں جبکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مکمل حمایت بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ امریکہ کو رفاہ پر ممکنہ فوج کشی کے حوالے سے شدید پریشانی لاحق ہے۔

ان تمام معاملات پر نیتن یاہو نے بدھ کے دن ری پبلیکن سینیٹرز کے ساتھ ایک ویڈیو کال پر رد عمل دیا۔۔۔سینیٹرز کا نیتن یاہو کے ساتھ بہت دوستانہ رویہ تھا۔۔۔کہ وہ کسی صورت غزہ جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ لیکن ڈیموکریٹ سینیٹرز سے بات کرنے کی اس کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت نیتن یاہو ایک ہی مراعت دینے کو تیار ہے کہ حملے کو موخر کیا جائے اور مان لیا جائے کہ IDF کی فوج کشی سے پہلے پناہ گزینوں کے دیوہیکل انخلاء کی اجازت ہو گی۔

الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق یروشلم میں ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ”رفاہ میں دہشت گردوں کی باقیات کے خاتمے اور رفاہ سے عوام کو انخلاء کی اجازت دینے کے حوالے سے ہمارے اہداف مشترکہ ہیں۔ ہم عوام کی موجودگی میں یہ کام نہیں کریں گے۔ درحقیقت ہم اس کے بالکل الٹ کریں گے، ہم انہیں باہر جانے دیں گے“۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رفاہ پر حملے کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی اسی رپورٹ کے مطابق ”عالمی دباؤ جتنا بھی ہو، ہم اس جنگ میں اپنے تمام اہداف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔حماس کا خاتمہ، تمام مغویوں کی بازیابی اور یہ یقین کہ غزہ اب اسرائیل کے لئے خطرہ نہیں رہا۔۔۔یہ سب کرنے کے لئے ہم رفاہ میں بھی آپریشن کریں گے“۔

لیکن پناہ گزین کہاں جائیں گے؟ ہم نے پچھلے مضامین میں وضاحت کی ہے کہ مصر میں پناہ گزینوں کی دیوہیکل تعداد کے جانے کا خطرہ موجود ہے۔۔۔نیتن یاہو کی حکومت میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد اس کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ خطرہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو السیسی آمریت نے پہلے سے اس کی تیاری کر رکھی ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں خطے میں موجود امریکہ کے دو قریبی اتحادیوں اسرائیل اور مصر میں امن معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ انتہائی دائیں بازو کی خر دماغ صیہونی پارٹیاں نیتن یاہو سمیت اس خطرے کو جانتی ہیں کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو اس کے نتیجے میں اسرائیل مضبوط نہیں ہو گا بلکہ شدید کمزور ہو گا۔

اس لئے IDF کو حکم دیا گیا ہے کہ شہریوں کو رفاہ سے وسطی غزہ کی جانب لایا جائے جسے ”انسانی پناہ گاہیں“ بتا یا جا رہا ہے۔ IDF کے ترجمان دانیال ہاگاری نے پچھلے ہفتے صحافیوں کو بتایا کہ رفاہ پر فوج کشی ”ایسا معاملہ ہے جو ہم نے کرنا ہے“ لیکن اس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وقت کا تعین ”حالات پر منحصر ہو گا“۔

اس سوال پر کہ حالات سے کیا مراد ہے، ہاگاری نے جواب دیا کہ ”ہمیں یقینی بنانا ہے کہ 14 لاکھ افراد کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر ہماری بنائی ہوئی انسانی پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے۔ وہاں انہیں عارضی رہائش، کھانا، پانی، فیلڈ ہسپتال وغیرہ سب میسر ہو گا“۔

یہ سب ایک دیوہیکل مشق ہے جو راتوں رات ممکن نہیں۔ اس لئے ہمیں سننے کو مل رہا ہے کہ رفاہ پر فی الحال فوری حملہ نہیں کیا جا رہا۔ ہاگاری کے مطابق ”ہم اپنی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔ میں وقت پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل کے لئے یہ بہترین وقت ہو گا“۔

یعنی اسرائیلی حکومت کی IDF سربراہوں سمیت یہ پوزیشن ہے کہ انہیں، ان کے مطابق، رفاہ پر حملہ کرنے کے لئے بہترین حالات بنانے ہیں۔ ان کے لئے سوال یہ نہیں ہے کہ حملہ ہو گا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ حملہ کب ہو گا۔

شیر پر سوار نیتن یاہو

نیتن یاہو کو اسرائیل میں بے پناہ دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف اسرائیلی عوام کا ایک حصہ خواہش مند ہے کہ مغویوں کی بازیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ لیکن ایک حالیہ رائے شماری کے مطابق 40 فیصد اسرائیلی حماس کا خاتمہ اولین ترجیح سمجھتے ہیں جبکہ صرف 32 فیصد کے خیال میں مغویوں کی بازیابی اولین ترجیح ہے۔

نیتن یاہو کے لئے سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ فروری میں حکومت پر عوامی اعتماد 34 فیصد کی کم ترین شرح تک گر گیا اور 63 فیصد اسرائیلی اب یہ سمجھتے ہیں کہ 2026ء تک انتخابات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ 36 فیصد کا خیال ہے کہ اگلے تین مہینوں میں انتخابات ہو جانے چاہئیں۔ ان انتخابات کا نتیجہ سب کے سامنے واضح ہے۔۔۔نیتن یاہو کا خاتمہ۔ اس لئے یہ خطرہ خارج از امکان نہیں ہے کہ آخری حد تک اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش میں نیتن یاہو لبنان پر بھی فوج کشی کروا سکتا ہے۔

اس وقت ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت میں موجود دراڑیں بھی شدت اختیار کر رہی ہیں۔ وزیر دفاع یواف گالانت نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ہر ممکن کوشش کر کے مغویوں کو بازیاب کرانا چاہیے جس میں کسی قسم کی جنگ بندی بھی چلے گی اور اگر حماس کے مطالبے کے مطابق مغویوں کے بدلے قیدی دینے پڑیں تو یہ قدم بھی اٹھا لینا چاہیے۔ اس حوالے سے اس کی پوزیشن امریکی سامراج سے ملتی جلتی ہے۔

پھر بینی گانتز بھی موجود ہے جس کا رویہ ایسا ہے جیسے وہ ابھی سے اگلا وزیراعظم بن گیا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا جس میں اس کا استقبال ایسے کیا گیا جیسے وہی وزیراعظم ہے۔ ظاہر ہے وہاں اس نے امریکی حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی۔ اس پر نیتن یاہو اور اس کی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو ممبران کو شدید غصہ چڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں اسرائیلی سفارت خانے کو ہدایات جاری کی گئیں کہ گانتز کے امریکی دورے میں اس کی کوئی معاونت نہ کی جائے حالانکہ وہ قومی اتحاد کابینہ کا ممبر ہے۔

امریکہ میں سب جانتے ہیں کہ بائیڈن نیتن یاہو کے خاتمے کا خواہش مند ہے۔ اس نے ایک رپورٹ بھی تیار کروائی تھی کہ مختلف حالات میں نیتن یاہو حکومت کے دوام کے کیا امکانات ہیں۔ امریکی سینیٹ کے قائد چک شومر کو امریکہ میں چوٹی کا یہودی سیاست دان سمجھا جاتا ہے اور وہ بائیڈن کا انتہائی قریبی ساتھی بھی ہے۔ اس نے بھی حالیہ دنوں میں نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس نے اعلانیہ ایک ایسی حکومت (اسرائیل میں) کا مطالبہ کیا ہے جو امریکی سامراج کی پیروی کرے۔ اس پر اسرائیلی حکومت نے برجستہ جواب دیا کہ ”اسرائیل امریکہ کا باجگزار (protectorate) نہیں ہے۔۔“۔

جب تک جنگ جاری رہے گی نیتن یاہو کے پاس بہانہ موجود رہے گا کہ فوری انتخابات نہ کرائے جائیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ نیتن یاہو اس وقت ایک شیر پر سوار ہے اور اسے خود بھی نہیں معلوم کہ یہ جنگ کس طرف جا رہی ہے، کیا وہ جنگ جاری رکھ سکتا ہے یا پھر اپنے منصوبے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کے مخالفین اس کا تختہ الٹ دیں گے۔ اس کو بس یہ معلوم ہے کہ یہ جنگ جتنی طویل ہو گی، اتنی دیر اس کی حکومت قائم رہے گی۔ اس وقت اس کی بس اتنی ہی سوچ ہے۔ یہ انتہائی تنگ نظر سوچ ہے اور اس کی صیہونی ریاست میں موجود دیگر اہم افراد کی سوچ سے کوئی مطابقت نہیں ہے۔

اگر وہ جنگ بندی کی طرف جاتا ہے تو وہ کابینہ میں موجود انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت کھو دے گا۔ انتہائی دائیں بازو، یہودی بالادستی پسند وزراء بن گویر اور سموتریچ خوفزدہ ہیں کہ ایک جنگ بندی سے ان کے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔ ایک طویل جنگ بندی کے بعد جنگ دوبارہ شروع کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو جائے گا۔

لیکن اگر نیتن یاہو مغویوں کے حوالے سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچتا تو پھر وزیر دفاع گالانت اور حزب اختلاف کا ایک قائد گانتز، جو کابینہ میں صرف جنگ کے دورانیے تک موجود ہے، دونوں اس کے خلاف اپنی چالبازیاں تیز کر سکتے ہیں۔

اس وقت تعطل جاری ہے۔ IDF رفاہ پر حملے کی تیاریاں کر رہی ہے اور مذاکرات کو تاخیری حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ میں اس نئے مرحلے کی تیاری کے تمام لوازمات مکمل ہو جائیں۔ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ رفاہ پر فوج کشی نہ کی جائے۔ اس سب کے دوران قتل عام جاری ہے۔ جنگ کے 168 دنوں میں 32 ہزار افراد قتل ہو چکے ہیں اور 74 ہزار زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے بھاری اکثریت بچوں کی ہے۔ اوپر سے اب غزہ میں ایک ممکنہ قحط کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔

ہم کسی مغربی ریاست پر اعتبار نہیں کرتے کہ وہ فلسطینی عوام پر 75 سالوں سے جاری بھیانک تباہی و بربادی کا کوئی مداوا کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عارضی جنگ بندی کا اطلاق ہو ہی جائے لیکن اسرائیل کی پشت پناہی جاری رہے گی اور ہتھیاروں کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ جنگ بندی ایک عارضی سکون ہے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ غزہ کی عوام کے بمباری سے پرخچے اڑنے کے خطرات ختم ہو جائیں گے۔ فلسطینی عوام کی زندگی اور موت کا ہر لمحے فیصلہ اسرائیلی صیہونی حکمران طبقے کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔

آج اسرائیل ایک طاقتور سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس کی پشت پناہی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت امریکہ کر رہی ہے۔ اس کا گھیراو دیگر سرمایہ دار ریاستوں میں ہے جن میں سے زیادہ تر میں آمریت قائم ہیں اور ان کی بھی پشت پر امریکہ ہی کھڑا ہے۔ اس لئے ان میں سے کسی نے بھی تباہی و بربادی کا شکار فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک انگلی نہیں اٹھائی۔

جب تک سرمایہ داری جاری رہے گی، سامراجی قوتیں قائم رہیں گی جن کا بنیادی مفاد اور مقصد امراء کی طاقت، استحقاق اور وقار کا دوام ہے۔ اس کی قیمت انسانیت مسلسل جنگ اور ہولناک معاشی بحرانوں کی شکل میں ادا کر رہی ہے۔ تباہی و بربادی پھیلانے والی جنگوں میں اربوں ڈالر جھونکے جا رہے ہیں۔ اگر ایک قوم کو اس کی آبائی زمین سے محروم کر دیا جاتا ہے، لاکھوں کی تعداد میں وہ پناہ گزین بن جاتے ہیں اور موت اور تباہی و بربادی ان کا مقدر بن جاتی ہے، تو اسے ایک لازمی قیمت سمجھا جائے گا جسے ادا کرنا عوام کا فرض ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کشی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ اور ICJ (عالمی عدالت انصاف) جیسے عالمی ادارے مکمل طور پر بانجھ ہیں۔ قراردادوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، احکامات کی بھرمار ہے لیکن مجال ہے کہ نسل کشی میں رتی برابر بھی کوئی کمی ہوئی ہو۔ درحقیقت عالمی قانون سامراجی قوتوں کی ننگی جارحیت کے لئے ایک نحیف و لاغر ستر پوشی ہے جسے ضرورت کے مطابق نوچ کر پرے پھینک دیا جاتا ہے۔

فلسطینی عوام عالمی طبقاتی جنگ کی اولین صف میں کھڑی ہے اور ہم، انقلابی کمیونسٹ، ان کے تاریخی حقوق اور آبائی زمین پر آباد رہنے کے مطالبے کی مکمل اور بھرپور حمایت کرتے ہیں جہاں ان کے پاس مکمل شہریت اور جمہوری حقوق ہوں، اچھی نوکریاں اور رہائش ہو، بچوں کے لئے بہترین تعلیم کے مواقع ہوں، بیماروں اور ضعیفوں کے لئے مناسب صحت کی سہولیات ہوں۔ یہ سب سماج کی انقلابی تبدیلی کی ایک عالمی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے جس میں سرمایہ دارانہ نظام کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرتے ہوئے تمام ممالک کا محنت کش طبقہ اقتدار پر قبضہ کر لے۔