5 اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت اور باشندہ ریاست کے قانون کو تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی دفعات 370 اور35A کا خاتمہ صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ لمبے عرصے سے قائم ایک مخصوص توازن کو حتمی سمجھنے والوں اور اسی قسم کے حقائق سے اخذ کردہ فارمولوں کے ذریعے اس خطے کی سیاست، سماجی حالات اور سفارتی تعلقات کا تجزیہ کرنے والوں کے شعور کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے نے اس قدر شدت سے جھنجوڑا ہے کہ ان کو اپنا دماغی توازن بحال کرنے اور نئی صورتحال کی تفہیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں اس خطے کے حکمران طبقات کے کے کچھ دھڑوں کے ساتھ وہ سبھی لبرلز اور نام نہاد بائیں بازو کے خود ساختہ دانشور سر فہرست ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کچھ بھی بدل نہیں سکتا ہر طرف جمود ہی جمود ہے، موجود توازن کو قائم رکھنا حکمران طبقات کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے اس کو بدل دینے والے اقدامات کے بارے میں تو حکمران طبقات کا کوئی بھی حصہ تصور تک نہیں کر سکتا، سامراجی طاقتوں کے بھی مفادات اسی صورتحال کو قائم رکھنے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی سماعتوں پر ایک اچانک دھماکے کی زوردار آواز کی مانند ہے جس نے ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، اگرچہ یہ لوگ بے حس و حرکت نہیں ہوئے نہ ہی ان کی قوت گویائی معطل ہوئی ہے اسی لئے یہ چلتے پھرتے ہیں اور بولتے بھی ہیں لیکن تخیل کی حواس باختگی ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہی۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خطے کی بعد از تقسیم تاریخ کا سب سے بڑا اور دھماکہ خیز اقدام ہے۔ آنے والے عرصے میں اپنے اثرات کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ کہلائے گا۔ مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو اس نے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور ایک حوالے سے اس تنازعہ کی اب تک کی کیفیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ 5اگست 2019ءسے پہلے گزشتہ 72 سالوں کے دوران کشمیر تنازعہ کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں ،دوطرفہ مذاکرات اور عالمی سفارتکاری سمیت کشمیر میں جاری تحریک کے مجموعی اثرات بھی تبدیل نہیں کر سکے، اس حیثیت کو بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن تبدیلی ہے جو اس پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سفارتکاری سمیت سماج کے ہر پہلو پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک بالکل نئے مرحلے کا آغاز ہے لیکن اس کی نوعیت اور سمت بالکل غیر متوقع ہے جس نے زیادہ تر سیاسی حلقوں کو کنفیوز کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ اقدام زیادہ تر لوگوں کے لئے حیران کن ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنے والے بھی اس قسم کی تبدیلی کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ سوشل میڈیا سمیت ابلاغ کے سبھی ذرائع اس اقدام پر تند و تیز مباحثوں کے ذریعے اس کی تفہیم کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن کہیں بھی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں کر پا رہا۔سب سے زیادہ بانجھ پن پر مبنی مو ¿قف نام نہاد بائیں بازو کا ہے جو اس کو مودی کے ہندوتوا کے نظریات یا ہندو فاشزم کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ درحقیقت یہ اقدامات عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کے زوال اور شکست و ریخت کے عمل کی پیداوار ہیںجن کو اس عمومی تبدیلی کے عمل کے تسلسل میں ہی درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے نامیاتی زوال کے اس تبدیل شدہ عہد کا انقلابی تحریکوں کے ابھار ، رد انقلابی خانہ جنگیوں سمیت وحشیانہ ریاستی جبر کی نئی اور پہلے سے زیادہ درندگی پر مبنی شکلوں کے ذریعے اظہار ہو رہا ہے۔دنیا کے ہر خطے میں طویل عرصے سے قائم سیاسی و سماجی توازن دھماکا خیز انداز میں ہر قسم کے واقعات کے ذریعے ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔

بورس جانسن نے کل(24جولائی) 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں برطانیہ کے نئے نویلے وزیراعظم کے طور پر اپنی جگہ سنبھال لی۔ اس کی وزارت عظمیٰ کا دور گہرے بحران اور شدید طبقاتی جدوجہد سے عبارت ہو گا۔

اتوار، 26 مئی کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس میں آٹھ لوگوں کے قتل کی تصدیق سامنے آ رہی ہے جبکہ تیس کے قریب زخمی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو زیر حراست لے لیا گیا ہے اور ان پر مقدمہ قائم کرتے ہوئے آٹھ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

سوڈان میں عبوری فوجی کونسل (TMC)اور انقلابی تحریک کے نمائندوں کے مابین مذاکرات کا عمل معطل ہو چکا ہے۔ اول تو یہ ہونے ہی نہیں چاہئیں تھے۔ لیکن اب وقت ہے کہ سوڈانی محنت کش طبقہ جارحانہ طرز عمل اپنائے۔

ایسٹر بغاوت کے 103سال مکمل ہونے کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لیے 2001ء میں لکھا گیا یہ آرٹیکل شائع کر رہے ہیں۔ آج ایسٹر بغاوت کو ایک صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے مگر اس بغاوت کی بنیاد میں کار فرما تضادات آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ بریگزٹ اور برطانوی سرما یہ داری کا بحران ان تضادات کو ایک بار پھر سطح پر لے آیا ہے۔ دیگر قومی تحریکوں کی طرح آئرلینڈ کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔ جیمز کونولی اور ایسٹر بغاوت کے واقعات میں موجودہ نسل کے لیے سیکھنے کے لیے بہت سے اسباق ہیں۔

جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیے گئے پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے سرگرم رہنما راول اسد کی درخواست ضمانت کر رد کرتے ہوئے ملتان کی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ آج کینٹ پولیس نے تاخیری حربے استعمال کرنے کے بعد بالآخر دوپہر 2 بجے کے بعد راول اسد کو عدالت میں پیش کیا اور 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ راول کا استقبال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے کارکنان، وکلا اور صحافی احاطۂ عدالت میں موجود تھے۔ راول کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا اپنے دلائل میں یہ واضح کیا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ دن دیہاڑے پولیس کی جانب سے کیے گئے ایک قتل کے خلاف انصاف مانگنا کیسے جرم بن گیا۔ اسی کیس میں نامزد باقی تمام سیاسی کارکنا ن کو یہی عدالت ضمانت قبل از گرفتاری دے چکی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود انصاف اور قانون کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے راول کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سب’’قانونی‘‘ کاروائی کا مقصد انقلابی جدوجہد کرنے والے طالبعلم کو انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔

عالمی مارکسی رجحان(IMT)، امریکی سامراج کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ کُو کی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتہائی دیدہ دلیری سے وینزویلا میں صدر مادورو کی حکومت کو گرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بولیوارین انقلاب پر پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے حملوں کی ایک تازہ ترین قسط ہے، ان حملوں میں اس کُو سے پہلے فوجی کُو،پیراملٹری دخل اندازیاں، پابندیاں، سفارتی دباؤ، دنگا فساد اور قتل کی کوششیں شامل ہیں۔

یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ حادثے انسانوں کی زندگی اور تاریخ، دونوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے دوران بہت سے حادثے اور غیر معمولی اتفاقات دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی حالات کی اتنی غیر متوقع کڑیاں ملتے ہوئے نہیں دیکھیں جن کا میں یہاں ذکر کرنے جا رہا ہوں۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا وقت سر پر آن پہنچا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جوں جوں یہ وقت گھٹتا جا رہا ہے برطانوی اور یورپی حکمران و سرمایہ دار طبقے کے سروں پر خطروں کی گھنٹیاں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ دو سال کے طویل وقت میں بھی ٹوری حکومت اور یورپی یونین بریگزٹ سے متعلق کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور یورپی یونین نے مشکل سے جو ڈیل کی، جب وہ برطانوی ہاؤس آف کامنز میں پہنچی تو ممبر ان پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے عمل میں اس ڈیل کے پرخچے اڑا دیئے۔ اور ابھی تک بار بار کی ووٹنگ کے باوجود برطانوی حکمران بریگزٹ سے متعلق کوئی دوسرا حل پیش نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ برطانوی حکمران طبقے اور حکمران جماعت میں موجود شدید پھوٹ ہے۔ 15جنوری کو پارلیمنٹ میں اس پر کی گئی ووٹنگ میں تھریسا مے کی ڈیل کو 230ووٹوں کی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان میں خود ٹوری پارٹی کے 118ممبران ایسے ہیں جنہوں نے خود اپنی ہی وزیراعظم کی ڈیل کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ تاریخ میں کسی بھی معاملے پر کسی بھی وزیراعظم کی سب سے بڑی شکست تھی جس میں اس کی اپنی پارٹی کے ایک بڑے حصے نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا۔

>جیسا کہ ہم پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ وینزویلا میں سامراجیوں اور ان کے کاسہ لیس لیما کارٹل کی سرکردگی میں کُو جاری ہے جب کہ اپوزیشن میں ان کے کٹھ پتلی اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ 23جنوری کو جاری کُو اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا جب ممبر پارلیمان گوائڈو نے جمہوریہ کے صدر کے بطور حلف اٹھایا۔

15 دسمبر کو مسلسل پانچویں ہفتے پیلی واسکٹ والے مظاہرین نے فرانس کی سڑکوں کا رخ کیا، جسے تحریک کی ’’پانچویں قسط‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 10 دسمبر کو میکرون کی طرف سے اعلان کی جانے والی مراعات، پورے ہفتے جاری رہنے والے طالب علموں کے مظاہروں اور CGT ٹریڈ یونین کی جانب سے ایک روزہ ملک گیر احتجاج کے بعد ہوا۔ پانچ ہفتوں بعد تحریک کس مرحلے پر پہنچی ہے اور اس کا تناظر کیا ہے؟